ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پبلک سیکٹر کے بینکوں میں حکومت کی شراکت کم کرنے کی کوششوں کی سختی سے مخالفت کی جائے گی: کانگریس

پبلک سیکٹر کے بینکوں میں حکومت کی شراکت کم کرنے کی کوششوں کی سختی سے مخالفت کی جائے گی: کانگریس

Sat, 20 Jul 2024 11:52:37    S.O. News Service

نئی دہلی، 20/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)  کانگریس نے جمعہ کو بینکوں کو قومیانے کے 55 سال مکمل ہونے پر کہا کہ 12 پبلک سیکٹر بینکوں میں حکومت کے حصص کو کمزور کرنے کے کسی بھی اقدام کی پارلیمنٹ اور باہر دونوں جگہ سخت مخالفت کی جائے گی۔ خیال رہے کہ سال 1969 میں اندرا گاندھی کی قیادت میں اس وقت کی حکومت نے 14 بینکوں کو قومیا لیا تھا۔

جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا، ’’55 سال پہلے آج ہی کے دن اندرا گاندھی نے 14 بینکوں کو قومیانے کا فیصلہ کن قدم اٹھا کر ہندوستان کی اقتصادی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے قومیانے کا زراعت، دیہی ترقی اور معیشت کے دیگر ترجیحی شعبوں کو قرض دینے کے معاملے میں گہرا اثر پڑا۔

رمیش نے کہا، ’’پبلک سیکٹر کی بینکنگ انڈسٹری میں پچھلے 7 سالوں میں بڑے پیمانے پر انضمام ہوئے ہیں۔ یونائیٹڈ بینک آف انڈیا اور اورینٹل بینک آف کامرس کو پنجاب نیشنل بینک میں ضم کر دیا گیا ہے۔ سنڈیکیٹ بینک کو کینرا بینک کا حصہ بنایا گیا ہے۔ الہ آباد بینک کو انڈین بینک میں ضم کر دیا گیا ہے۔‘‘

کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ان انضمام کے اپنے واضح چیلنج تھے، لیکن انہیں بڑے پیمانے پر صرف اس لیے قبول کیا گیا کہ پبلک سیکٹر کے بینکوں میں مرکزی حکومت کا حصہ 51 فیصد سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ رمیش کے مطابق، اس وقت 12 پبلک سیکٹر بینکوں کی پوزیشن کو کمزور کرنے کے کسی بھی اقدام کی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سخت مخالفت کی جائے گی۔


Share: